Pages - Menu

جمعرات، 3 ستمبر، 2020

عدالت نے لیگی ایم این اے چوہدری فقیر آرائیں کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی

بورے والا: عدالت نے لیگی ایم این اے چوہدری فقیر آرائیں کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی, ضمانت کے لئ ئندہ تاریخ 
پیشی 19 ستمبر مقرر کردی, چوہدری فقیر آرائیں کے خلاف محکمہ انہار کی زمین پر قبضے کا مقدمہ درج ہوا
مکمل تحریر اور تبصرے>>

بدھ، 2 ستمبر، 2020

میرے خلاف جھوٹی ایف آئی درج کی گئی ہے ایم۔این اے چوہدری فقیر احمد آرائیں کا موقف


 

مکمل تحریر اور تبصرے>>

مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے چوہدری فقیر آرائیں کے خلاف سرکاری جگہ پر قبضہ کے جرم میں مقدمہ درج

بورے والا: مسلم لیگ(ن) کے ایم این اے چوہدری فقیر آرائیں کے خلاف سرکاری جگہ پر قبضہ کے جرم میں مقدمہ درج، ایف آئی آر کے مطابق لیگی ایم این اے نے نواحی گاوں 108/ ای بی میں محکمہ انہار کی 7 کینال اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ۔مقدمہ محکمہ انہار کے ایس ڈی او کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے مقدمہ میں ایم این اے سمیت 11 افراد کے خلاف قبضے کا الزام ہے مسلم لیگ ن کے ایم این اے عرصہ دراز سے سرکاری اراضی پر فصل کاشت کررہے ہیں دوسری جانب ایم این اے چوہدری فقیر احمد آرائیں کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر انتہائی غلط اور درست نہیں ہے۔ مقامی ایم پی اے کی زیر سرپرستی سرکاری زمین پر قبضہ کی نشاندہی پر پی ٹی آئی کی قیادت ذاتی مخالفت پر اتر آئی ہے۔ سرکاری زمین بالکل خالی پڑی ہے کس کے قبضہ میں نہ ہے۔ ہم نے اپنی ذاتی زمین لیز پر دی ہوئی ہے۔ 






مکمل تحریر اور تبصرے>>

اتوار، 14 اپریل، 2019

منشیات سمگلنگ کیس: بورےوالا کے رہائشی میاں بیوی کو سعودی عرب میں سر قلم کرکے موت کی سزا دے دی گئی



تحریر: محمد لطیف خلجی

بورے والا کے نواحی گاؤں 435 عتیق ٹاؤن چیچہ وطنی روڈ کا رہائشی غلام مصطفیٰ عرف ٹولی اپنی بیوی ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔اسی علاقہ میں بالے کے ہوٹل کے سامنے والی گلی میں وسیم نامی ایک شخص رہتا تھا جو کردار کے حساب سے کوئی مناسب شخص نہ تھا اوراس کا محلہ میں عیسائی لڑکی کے ساتھ شادی اور پھر دھوکہ دہی کا معاملہ بھی رہا ہے وسیم بنیادی طور پر پاکستان کے کسی بڑے ڈرگ سمگلنگ گینگ کے لیے کام کرتا تھااور اسی بااثر گینگ کے لیے بھولے ، شریف اور سادہ لوح لوگوں کو عمرہ پر انتہائی سستے پیکج کے تحت لے جانے کی آڑ میں ایفی ڈرین کیپسول (منشیات) سمگل کروانے کے لیےایسے ہی ضرورت لاچار اور غربا کو ڈھونڈھ کر اپنی ٹیم میں لاتا تھا ۔اسی سلسلہ میں وسیم نے مصطفیٰ عرف ٹولی کے سالے کو بھی ایک کامیاب کیپسول سمگل ٹور لگوا چکا تھا۔ 
 
انتہائی شریف ،ملنسار محنت کش غلام مصطفیٰ عرف ٹولی اپنے سالے اور وسیم کی لچھے دار گفتگو میں آ گیا اور لالچ نے اسے اندھا کر دیا ۔۔ہاۓ رے غربت ۔۔۔ تو نے کہیں کا نہ چھوڑا جس شخص نے کبھی پچاس ہزار کی کمیٹی نہ ڈالی ہو اس کے لیے پچاس لاکھ کی رقم بہت معنی رکھتی تھیاور ساتھ پوری فیملی کو عمرہ کی 5 سٹار سعادت بھی اور ساتھ جان کے تحفظ کا پورا یقین بھی ایسی صورت حال میں غریب آدمی کیسے انکار کر سکتا تھا ۔۔۔مشہور قول ہےکہ غربت انسان کو کفر تک لے جاتی ہے ۔غلام مصطفیٰ عرف ٹولی کے سامنے اپنے سالے کے سامنے کامیاب ٹور کی مثال موجود تھی اس لیے وہ اس خوف ناک جرم پر بلکل بھی نہیں گھبرایا ۔غلام مصطفیٰ عرف ٹولی نے عمرہ کی سعادت کو اپنے اہل محلہ سے پوشیدہ رکھا خاص دوستوں کو بس یہی بتایا کہ وہ بہت جلد بہت امیر ہونے والا ہے ۔



غلام مصطفیٰ عرف ٹولی

2016 کے رمضان المبارک میں وسیم اور اس کے ڈرگ گینگ نےان میاں بیوی کو ایفی ڈرین کے کیپسول (منشیات) نگلوا کر پیٹ میں محفوظ کروائے ۔اور ملتان ایئر پورٹ سے باحفاظت وہاں سے کلئیر کروایا ۔جس سے ان میاں بیوی کو وسیم اور ان کے باس کے طاقتور ہونے اور سفر کے محفوظ ہونے کا یقین اور بڑھ گیا ۔جب ان میاں بیوی کو ایفی ڈرین کے کیپسول نگلوائے گئے تھے تب ان کوہدایت دی گئی تھی کہ آپ نے جہاز میں ریفریشمنٹ نہیں لینی ،،، بس ٹولی سے یہی حماقت ہوئی ۔۔۔اس نے ریفریشمنٹ تو نہ لی مگر دو بار کولڈ ڈرنک پی لی۔ یہی کولڈ ڈرنک اس کے لیے موت کا پروانہ بن گئی جب یہ لوگ جدہ ایئر پورٹ پر اترے ۔تو وہاں کی ڈرگ سمگل ٹیم نے ان کو وہاں ایئر پورٹ سے بھی کلئیر کروا دیا تھا ۔قدرت کو کچھ اورہی منظور تھا ۔مگر تب تک کولڈ ڈرنک میں موجود گیس اور کیمیکل نے پیٹ میں کیپسول کو بری طرح متاثر کر دیا تھا ۔جس کی وجہ سے غلام مصطفیٰ عرف ٹولی ایئر پورٹ سے نکلنےہی والا تھا کہ اسے ایئر پورٹ کے ویٹنگ ایریا میں قے ( الٹی) آ گئی ،اور اس میں کچھ کیپسول قے سے باہر فرش پر گر گئے جس کی بنیاد پر شک گزرنے پر پولیس (شُرتے) ان دونوں کو اپنی حراست میں ہسپتال لے گئے جہاں باقی سارا انکشاف ہوا۔


غلام مصطفیٰ کے ساتھ جانے والی ان کی بیٹی کو فوری ڈی پورٹ کر دیا گیا اور میاں بیوی پر مقدمہ درج کر دیا گیا غلام مصطفیٰ کی باقی فیملی کو وسیم یقین دلاتا رہا کہ ان کا باس ان دونوں کو بہت جلد رہا کروا دے گا آپ نے کسی نے کوئی بات نہیں کرنی ۔گھبرانا نہیں ۔غلام مصطفیٰ کے والدین اور بہن بھائیوں کو یقین تھا کہ وسیم ان دونوں کو ضرور چھڑوا لے گا ، اس لیے انہوں نے بھی کسی کو کچھ نہ بتایا ایک ماہ قبل جب سعودیہ عدالت نے ان میاں بیوی کے " ڈیتھ وارنٹ" جاری کیے تب سے وسیم اس محلہ کو چھوڑ کر مفرورہو گیا ۔12 اپریل 2019 کو ان میاں بیوی کو نماز جمعہ کے بعد جدہ کی جامع مسجد کے باہر پاکستانی وقت کے مطابق 4:00 بجے سر قلم کرکے موت کی سزا دے دی گئی اور میتوں کی وہاں ہی تدفین کر دی گئی ۔۔۔
میری رائے میں وسیم خوف میں اپنے باس کے پاس پناہ لے گا اور باس اس کو قتل کر دے گا ، جیسے فلموں میں ہوتا ہے ۔۔



مبینہ ملزم وسیم


نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری
زندگی میں جتنا آپ کے پاس ہے ،
اسی پر صبر شکر کے ساتھ جینا سیکھو
رب کے تھوڑے دیے پر زمین پر خوش رہو
رب کریم روز محشر آپ کے تھوڑے عمال پر خوش ہو گا


مکمل تحریر اور تبصرے>>

جمعہ، 21 دسمبر، 2018

خاتون اور اس کی دو بیٹیوں کو غیر قانونی طور دو دن تھانہ گگو منڈی میں محبوس رکھنے پر پولیس اہلکاران کے خلاف مقدمہ

بورے والا: ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وہاڑی محمد عاطف اکرام نے تحصیل بورے والا میں خاتون اور اس کی دو بیٹیوں کو غیر قانونی طور دو دن تھانہ گگو منڈی میں محبوس رکھنے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس ملازمین کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے پر چھاپہ مار نے والی پوری پولیس پارٹی کے خلاف پولیس آرڈر 155 سی اور 342 ت پ کے تحت تھانہ گگومنڈی مقدمہ کر کے درج کرنے کا حکم دیا ہے 

ڈی پی او وہاڑی نے  ابتدائی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ایس ایچ او تھانہ گگو منڈی انسپکٹر شاہد اسحاق، اے ایس آئی عباس علی، کنسٹیبلان وقاص، یسین، آصف خان اور افضال کو معطل کر کے لائن حاضر کر دیا جبکہ ڈی ایس پی صدر محمد خالد جوئیہ کو انکوائری افسر مکمل کر کےجلد رپورٹ جمع کروانے کی ہدایات بھی جاری کر دیں ہیں ۔

پولیس افسران کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے
بورےوالا کے نواحی گاؤں 277 ای بی میں آرمی کے متوفی لانس نائیک نور حسن کی بیوہ اور اس کی دو بیٹیوں کو دو دن تھانہ گگو منڈی چوری کے مقدمہ میں غیر قانونی طور پر محبوس رکھنے پر کی گئی۔ بشیراں بی بی نے صحافیوں کو بتایا کہ بااثر ملزمان نے اس کے بیٹوں کے خلاف ایک شخص صوبیدار منظور احمد کی مدعیت میں بچھڑا چوری کا جھوٹا مقدمہ درج کروایا اور بعد ازاں ملزمان پولیس کی مدد سے اس کے گھر کی دیوار گرا کر اس کے ذاتی مال مویشی بھی اپنے ساتھ لے گئے

گگومنڈی پولیس نے بشیراں بی بی اور اس کی دو نوجوان بیٹیوں کو لیڈی پولیس اہلکار کے بغیر گرفتار کرکےدو روز تھانہ مین بند رکھا بشیراں بی بی نے اعلیٰ حکام سے پولیس اورملزمان کےخلاف کاروائی کی درخواست کی تھی دوسری جانب ریجنل پولیس آفیسر وسیم خان نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او وہاڑی عاطف اکرام سے رپورٹ طلب کر لی ہے ۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

پیر، 17 ستمبر، 2018

واپڈا اہلکاروں اور کسان اتحاد کے ایک دوسرے پر پتھراؤ سے واپڈا کمپلیکس میدان جنگ بن گیا


بورے والا: کسان اتحاد کا میپکو وہاڑی بازار میں کمپلیکس پردھاوا، واپڈا اہلکاروں اور کسان اتحاد کے ایک دوسرے پر پتھراؤ سے واپڈا کمپلیکس میدان جنگ بن گیا، کسانوں نے دفاتر میں توڑپھوڑ کر کے یکارڈ درہم برہم کر دیا اورکمپلیکس میں کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑ کر موٹر سائیکلیں بری طرح تباہ کر دیا ۔ تصادم کے دوران 6 سے زائد کسان اور 10 واپڈا اہلکار زخمی ہو گئے ۔ تفصیلات کے مطابق کسان اتحاد اور واپڈا کے درمیان گذشتہ چند روز سے اوور بلنگ اور دیگر معاملات گذشتہ روز شدت اختیار کر گئے اور گذشتہ روز کسان اتحاد اور میپکو یونین کے عہدیدارایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے تھے ۔ کسانوں نے اس سلسلہ میں احتجاجی ریلی نکلالی اور واپڈا کمپلیکس کے بیرونی گیٹ پر پہنچ کر احتجاج شروع کر دیا اور اسی اثناء میں کسانوں کے مطابق ان کے اوپر واپڈا دفاتر کے اندر سے پتھراؤ شروع کر دیا گیا جس پر کسان مشتعل ہو گئے اوروہ ٹریکٹر کے مدد سے بیرونی گیٹ توڑ کر اندر داخل ہو گئے اور دفاتر میں توڑپھوڑ کر کے یکارڈ درہم برہم کر دیا ۔کمپلیکس میں کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑ کر موٹر سائیکلیں بری طرح تباہ کر دیں۔ اس تصادم میں 6 سے زائد کسان اور 10 واپڈا اہلکار زخمی ہو گئے جن کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ۔واپڈا کے یونین لیڈرشاہد باری چوہان نے پتھراؤ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی نفری تماشا دیکھتی رہی اور ان کے متعدد کارکن زخمی ہو گئے۔ واقعہ کی اطلاع ملتی ہی ڈی ایس پی بورے والا حافظ خضرالزمان موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو کیا اور زخمی افراد اور ملازمین کو اسپتال منتقل کیا ۔ 
مکمل تحریر اور تبصرے>>

ہفتہ، 28 جولائی، 2018

سابق ایم این اے چوہدری نذیر احمد جٹ کی سیاست کا عبرتناک انجام

بورے والا : سپریم کورٹ سے تاحیات نا اہل سابق ممبر قومی اسمبلی،  خود ساختہ قائد عوام چوہدری نذیراحمد جٹ کی سیاست کا عبرتناک انجام، بیوی، دو بیٹیوں سمیت جٹ گروپ کے حمایت یافتہ 8 حلقوں میں امیدواران قومی و صوبائی اسمبلی بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود بدترین شکست کا شکار ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق جعلی ڈگری کیس میں تاحیات عدالت عظمیٰ سے نا اہل سابق ممبر قومی و صوبائی اسمبلی بورے والا چوہدری نذیر احمد جٹ نے الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے تحریک انصاف سے این اے 162 پی پی 229 اور پی پی231 کے لیے ٹکٹ حاصل کیے اور انتخابی مہم شروع کر دی ریٹرننگ آفیسر کے پاس پی پی229 کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تاکہ ایم پی اے بن کر پی ٹی آئی کے اعلان کے تحت جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے بعد جنوبی پنجاب کی وزارت اعلیٰ حاصل کی جائے شہر میں ”قائد عوام نذیراحمد جٹ“ کے بینرز آویزاں کر دیے گئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران ریٹرننگ آفیسر کے روبرو موصوف اپنے نا اہلی ختم ہونے کے کوئی عدالتی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ کاغذا ت مسترد ہونے کے بعد ان کی پارٹی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی اور اسحاق خان خاکوانی کے خلاف اپنی دوسری بیٹی کو انتخاب سے دستبردار کرانے سے انکار کے متعلق جب پارٹی قیادت کو انکشاف ہوا کہ نذیر جٹ صاحب تو تاحیات نااہل ہیں اور پارٹی قیادت کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں جس پر تحریک انصاف نے تینوں ٹکٹ واپس لے کرنظریاتی امیدواروں کو جاری کر دیے چوہدری، نذیر احمد جٹ نے جٹ گروپ کے تحت این اے 162سے اپنی بیٹی عائشہ نذیر جٹ این اے 163سے چھوٹی بیٹی ڈاکٹر عارفہ نذیر جٹ، حلقہ پی پی 229گگو سے اپنی بیوی عابدہ ادیب جٹ کو تحریک اللہ اکبر کے ٹکٹ پر کھڑا کیا اسی حلقہ سے سابق تحصیل ناظم چوہدری عثمان احمد وڑائچ پی پی 230 بورے والا شہر کے لیے پیرا شوٹر امیدوار حاجی عبدالحمید بھٹی، صوبائی حلقہ پی پی 232 سے علی وقاص ہنجرا پی پی 231 سے عمران ایوب سلدیرا کو نامزد کر کے خود کو پی ٹی آئی کا ہم خیال ظاہر کرکے بھرپور انتخابی مہم چلائی اوراپنی تقریروں میں اعلانات  کئے کہ ہم یہ نشستیں بھاری اکثریت سے جیت کر چیئرمین عمران خان کو تحفہ میں پیش کریں گے یہ انتخابی مہم جہاں پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرز امیدواران کی ناکامی کا باعث بنی وہاں خود نذیر جٹ گروپ کے حمایت یافتہ تمام امیدواران قومی وصوبائی اسمبلی بھی بدترین تاریخی شکست سے دوچار ہوئے بعض پیرا شوٹرامیدواروں نے تورزلٹ کا پتہ چلتے ہی اپنے حلقہ کےحامیوں سے الوداعی ملاقات کئے بغیر اپنے بریف کیس اٹھا کر اپنے واپسی کی تیاری شروع کر دی ہے ۔ واضح رہے کہ 2013 کے الیکشن میں بھی نذیر احمد جٹ اپنی دو بیویوں ،دو بیٹیوں اور دو بھتیجوں سمیت  6 امیدوار انتخابی میدان میں اتارے تھے مگر 2018 کے نتائج سے بھی ابتر رزلٹ سامنے آئے تھے اور پورا خاندان شکست سے دوچار ہوا تھا مگر انہوں نے اپنی غلطی سے کوئی سبق نہ سیکھا 
 بقول شاعر 
جیڑے کہندے سی مراں گے نال تیرے
اج اوہنا وی بازیاں ہاریاں نے ۔۔۔۔۔
جیڑے ٹرپدے سی دید نوں دنے راتیں
اج اوہنا وی بازیاں ماریاں نے۔۔۔۔۔
جدوں باغ وچ خزاں نے وال کھولے
پنچھی اڈ گے مار اڈاریاں نے۔
محمد بوٹیا جھوٹا ای جگ سارا 
کملی والے دیاں سچیاں یاریاں نے
مکمل تحریر اور تبصرے>>

جمعرات، 15 فروری، 2018

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف آج سہ پہر 3 بجے گورنمنٹ کالج بورے والا گراؤنڈ میں عظیم الشان عوامی جلسہ عام سے خطاب کریں گے


بورے والا : وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف آج سہ پہر 3بجے گورنمنٹ کالج بورے والا گراؤنڈ میں عظیم الشان عوامی جلسہ عام سے خطاب کریں گے ۔وزیر اعلیٰ کے جلسے میں عوام کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے تمام انتطامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ عوام کو جلسے میں لانے کے لیے ہزاروں کارکنان پر مشتمل سب سے بڑا جلوس چوہدری ارشاد احمد آرائیں کی قیادت میں ملتان روڈ ان کے دفتر سے آدھ کلو میٹر کا پیدل سفر طے کر کے جلسہ گاہ تک پہنچے گا امیدوار صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی 233سردار خالد محمود ڈوگر کی قیادت میں لاہور روڈ ڈوگر مارکیٹ سے کارکنان کی ایک بڑی ریلی پیدل جلسہ گاہ تک پہنچے گی چیئر مین بلدیہ چوہدری محمد عاشق آرائیں و دیگر ارکین اسمبلی بھی اپنے اپنے جلوس لے کر جلسہ گاہ پہنچیں گے مقامی ایم پی اے چوہدری ارشاد احمد آرائیں نے جلسہ کے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے خطاب میں بورے والا بائی پاس اڈہ مانا موڑ ،چیچہ وطنی روڈ تا ظہیر نگر ۔تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی اپ گریڈیشن ۔بورے والا ،چشتیاں کے درمیاں دریائے ستلج پر پل کی تعمیر وہاڑی میں میڈیکل کالج کے قیام ،بورے والا شہر و تحصیل کیلئے ڈویلپمنٹ کے منصوبوں اور گگو منڈی کو تحصیل کا درجہ دینے ،کاشتکاروں سے سرکاری نرخوں پر گنے کی خریداری کو یقینی بنانے ،کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق ،بورے والا شہر کے 50کروڑ روپے کے خصوصی پیکج ،سکولوں کی اپ گریڈیشن اور اڈہ ساتواں میل پر وومن ڈگری کالج کے قیام ،اڈہ رسول پورتا میتلا چوک ،چونگی نمبر 5تا اڈہ ساتواں میل دو رویہ سڑک کی تعمیر ،شہریوں کے پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے منصوبوں سمیت دیگر میگا پروجیکٹس کا بھی اعلان کریں گے ۔جبکہ وہ جلسے سے قبل بورے والا میں زیر تعمیر میاں محمد شہباز شریف منی بائی پاس ۔ریسکیو 1122۔لینڈ ریکارڈ سنٹر،سپیشل ایجوکیشن سکول سمیت محکمہ پبلک ہیلتھ محکمہ بلڈنگز اور محکمہ ہائی ویز کے دس منصوبوں کی تختیوں کی نقاب کشائی کریں گے 
مکمل تحریر اور تبصرے>>

مسلم لیگ (ن) آئندہ انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر بھر پور کامیابی حاصل کرے گی ممبر قومی اسمبلی سید ساجد مہدی سلیم


بورے والا: مسلم لیگ (ن) کے ممبر قومی اسمبلی این اے168 سید ساجد مہدی سلیم نے کہاہے کہ ان کی حکومت کے دور میں تعلیم،صحت، بجلی اور سڑکوں کی تعمیرکے ریکارڈ ترقیاتی کام مکمل ہوئے ہیں جن کے ثمرات سے عوام مستفید ہو رہے ہیں اور مسلم لیگ (ن) آئندہ انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر بھر پور کامیابی حاصل کرے گی وہ نواحی گاؤں 501ای بی میں چیئرمین یونین کونسل 38محمد کاشف رامے کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی آمد پر عوام کے بڑی تعداد میں ان کا والہانہ استقبال کریں گے اورثابت کریں گے کہ بورے والا مسلم لیگ (ن) کا قلعہ ہے اور یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ مسلم لیگ ن سے محبت کی ہے۔اس موقع پر سابق وفاقی وزیر و ضلع ناظم وہاڑی سید شاہد مہدی نسیم، کوآرڈنیٹر تنویر احمد گجر،وائس چیئرمین ضلع کونسل وہاڑی رانا شاہد سرور، مسلم لیگی راہنما نعیم احمد بھٹی،چیئرمین یونین کونسلز چوہدری آفتاب حسین،ملک حیدر علی لنگڑیال،عامر ممتاز چشتی،حاجی امیر علی،محمد خالد بودلہ،نثار احمد ولیکا،چوہدری احسان اللہ گھمن، وائس چیئرمین یو سی 38 فوجی محمد اسلم ڈوگر،سابق ناظم چوہدری محمدسعید رامے، چوہدری سجاد جاوید رامے،ملک منظور احمد نمبردار،چوہدری نعیم صابر، چوہدری محمد صدیق دیول ایڈووکیٹ،ندیم مشتاق رامے،عدنان ارشاد رامے، مسعو الرؤف رامے،محمد عاطف رامے، محمد علی بھٹی، کونسلرز اور عمائدین علاقہ کی کثیر تعداد موجود تھی۔سید ساجد مہدی سلیم نے کہا کہ ان کے حلقہ میں ریکارڈ 25سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا جس میں چک نمبر499 ای بی کے دو سکول بھی شامل ہیں جبکہ ایم پی اے بلال اکبر بھٹی کے ساتھ مل کر ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت سے چک نمبر503ای بی میں صاف پانی کی فراہمی چکوک نمبرز 505,501,503,497,499 کے لئے رابطہ سڑکوں کی تعمیر کیلئے ساڑھے تین کروڑ روپے کے فنڈز منظور ہو چکے ہیں جن پر کام بہت جلد شروع ہوکرجون 2018 تک مکمل ہوجائے گا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر سید شاہد مہدی نسیم نے کہا کہ 1987سے بورے والا کے عوام مسلم لیگ کے ساتھ کھڑے ہیں اور اکثریت نے ہمیشہ ان کی قیادت سے محبت کا اظہار کیا ہے عوام 15فروری کو وزیر اعلیٰ کے جلسہ کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ سمجھتے تھے کہ مسلم لیگ ن کمزور ہو جائے گی وہ شایدکسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کیونکہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت میں پارٹی پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ انشائاللہ مستقبل کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف ہوں گے اور وہ اپنی انتخابی مہم کا آغاز بورے والا سے کر رہے ہیں۔ کوآرڈنیٹر تنویر احمد گجرنے کہا کہ جو لوگ سمجھتے تھے کہ نااہلی کے فیصلہ کے بعد میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کی سیاست ختم ہو چکی ہے لودھراں کا ضمنی الیکشن ان کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جنوبی پنجاب نے ثابت کیا ہے کہ یہ مسلم لیگ کا قلعہ ہے انہوں نے کہا کہ مستقبل کے وزیر اعظم کے استقبال کے لئے لوگوں کی کثیر تعداد جلسہ عام میں شرکت کرے گی۔#
مکمل تحریر اور تبصرے>>

بدھ، 7 فروری، 2018

دریائے ستلج پر بورے والا اور چشتیاں کے درمیان پل کی تعمیر ایک دیرینہ عوامی مطالبہ


تحریر: ندیم مشتاق رامے
بورے والا: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت جب بھی اقتدار میں آئی اس نے ملک کے اندر انفراسٹرکچر کی ترقی کے لئے ہمیشہ بڑے اقدامات کیے ہیں جن کا براہ راست فائدہ معاشی اور انسانی ترقی کی صورت میں سامنے آیا ہے ملک کے اندر موٹر ویز اور شاہراﺅں کی تعمیر کے اقدامات، میٹرو بس اور میٹرو ٹرین جیسے منصوبے ویسے تو مہذب معاشروں میں ترقی کا استعارہ سمجھے جاتے ہیں لیکن ناقدین ان منصوبوں کے خلاف مسلم لیگ (ن ) کی حکومت پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی توجہ بڑے شہروں کی ترقی کی جانب مرکوز ہے اور یہ پسماندہ اور چھوٹے علاقوں کو مسلسل نظر انداز کر تی رہی ہے لیکن اس بحث میں پڑنے کی بجائے حکومت کی توجہ ایک دیرینہ مسئلہ کی جانب دلائی جانا ضروری ہے وہ یہ کہ ذرائع مواصلات آنے کے بعد دیہی معیشت کو براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے اور اس کی ایک بڑی مثال موبائل فون اور انٹرنیٹ کی فراہمی ہے جس کی وجہ سے ایک کسان چند منٹوں میں منڈیوں سے فصل کی قیمت، موسم کا حال معلوم کر سکتا ہے اور اپنی فصل منڈی میں منتقل کر سکتا ہے اجناس کی زرعی منڈیاں کسان کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتی ہیں اور ان تک آسان رسائی کسانوں کا بنیادی حق ہے اسی طرح جنوبی پنجاب کا یہ خطہ جو کہ بورے والا، وہاڑی، خانیوال، میاں چنوں، چیچہ وطنی، چشتیاں، حاصل پور، بہاولنگر، ہارون آباد وغیرہ کے علاقوں پر مشتمل ہے زرعی اجناس کی پیدوار کے لحاظ سے پنجاب کے انتہائی زرخیزعلاقوں میں شمار ہوتا ہے اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے اگر ان شہروں کو بہترین ذرائع آمدورفت سے آپس میں ملا دیا جائے تو ان شہروں کی دیہی معیشت کے لئے صورتحال انتہائی بہترہو جائے گی۔ اگر جائزہ لیا جائے تو بورے والا سے چشتیاں کا فضائی فاصلہ 46 کلو میٹر ہے لیکن ان شہروں کے لوگوں کو چشتیاں،ہارون آباد، بہاول نگردیگر شہروں کو جانے کے لئے 100 کلو میٹر کی مسافت طے کرتے ہوئے دو شہروں وہاڑی اور حاصل پور سے گزر کربذریعہ ہیڈاسلام دریائے ستلج عبور کرنا پڑتا ہے جس سے نہ صرف وقت کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ فیول کی مد میں بھی زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے اگر بورے والا اور چشتیاں کے درمیاں دریائے ستلج پر ساہوکا کے مقام پر پل اور سڑک بنا دی جائے تو عوام کی اکثریت کو اس کا فائدہ ہو گا۔ بورے والا ، چشتیاں، ہارون آباد، حاصل پور کی غلہ منڈیاں کاروبار میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں کیونکہ کاروباری لحاظ سے ان غلہ منڈیوں میں بیوپاری اپنا مال فروخت کرنا پسند کرتے ہیں جو بہرحال زرعی معیشت کی ترقی کے لئے نئی راہیں کھولے گا۔اس پل کی وجہ سے تعلیمی میدان میں بھی ترقی ہو گی ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے بورے والا میں کیمپس کے قیام کے بعد تعلیمی میدان میں بھی فائدہ مند ہو گا زرعی یونیو رسٹی فیصل آباد کے بورے والا کیمپس سے ان علاقوں کے طالب علم براہ راست مستفید ہو سکیں گے چشتیاں بورے والا کے درمیان اس پل کی تعمیرکے بعد جی ٹی روڈ اور موٹر وے کے مجوزہ منصوبوں تک پہنچنے میں بھی آسانی ہو گی۔ بورے والا اور چشتیاں کے درمیان اس پل کی پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت میں قومی اقتصادی رابطہ کونسل نے PSDP پروگرام کے تحت تعمیر کی باقاعدہ منظوری اگست 2012ئ میں دے دی تھی اور اس کی تعمیر کے لئے 1644 کے فنڈز مختص کرکے 67 ملین روپے جاری کرنے کا حکم جاری کیا تھا اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اس کا پی سی ون بھی تیار کر لیا تھا اور بورڈ میٹنگز میں اس کے پی سی ون کے مختلف پہلوﺅں پر بات چیت بھی ہوتی رہی ہے حالانکہ PSDP پروگرام میں ہر سال اس منصوبہ کا ذکر تو ہوتا ہے لیکن اس کے لئے فنڈز مختص نہیں کیے جا رہے وزیر اعلی ٰ پنجاب نے گذشتہ دورہ بورے والا کے دوران پل کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ وعدہ بھی وفا نہ ہو سکا۔ اب وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف اپنے 15 فروری 2018 کے مجوزہ دورہ کے دوران اگر اس عوامی مطالبہ کو پورا کر دیتے ہیں تو اس فیصلہ سے نہ صرف مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کے ایک دیرینہ مطالبہ کی تکمیل بھی ہو گی جو زرعی معشیت کے لئے انتہائی فائدہ مند ہو گا۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>