Pages - Menu

جمعرات, فروری 15, 2018

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف آج سہ پہر 3 بجے گورنمنٹ کالج بورے والا گراؤنڈ میں عظیم الشان عوامی جلسہ عام سے خطاب کریں گے


بورے والا : وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف آج سہ پہر 3بجے گورنمنٹ کالج بورے والا گراؤنڈ میں عظیم الشان عوامی جلسہ عام سے خطاب کریں گے ۔وزیر اعلیٰ کے جلسے میں عوام کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے تمام انتطامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ عوام کو جلسے میں لانے کے لیے ہزاروں کارکنان پر مشتمل سب سے بڑا جلوس چوہدری ارشاد احمد آرائیں کی قیادت میں ملتان روڈ ان کے دفتر سے آدھ کلو میٹر کا پیدل سفر طے کر کے جلسہ گاہ تک پہنچے گا امیدوار صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی 233سردار خالد محمود ڈوگر کی قیادت میں لاہور روڈ ڈوگر مارکیٹ سے کارکنان کی ایک بڑی ریلی پیدل جلسہ گاہ تک پہنچے گی چیئر مین بلدیہ چوہدری محمد عاشق آرائیں و دیگر ارکین اسمبلی بھی اپنے اپنے جلوس لے کر جلسہ گاہ پہنچیں گے مقامی ایم پی اے چوہدری ارشاد احمد آرائیں نے جلسہ کے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے خطاب میں بورے والا بائی پاس اڈہ مانا موڑ ،چیچہ وطنی روڈ تا ظہیر نگر ۔تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی اپ گریڈیشن ۔بورے والا ،چشتیاں کے درمیاں دریائے ستلج پر پل کی تعمیر وہاڑی میں میڈیکل کالج کے قیام ،بورے والا شہر و تحصیل کیلئے ڈویلپمنٹ کے منصوبوں اور گگو منڈی کو تحصیل کا درجہ دینے ،کاشتکاروں سے سرکاری نرخوں پر گنے کی خریداری کو یقینی بنانے ،کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق ،بورے والا شہر کے 50کروڑ روپے کے خصوصی پیکج ،سکولوں کی اپ گریڈیشن اور اڈہ ساتواں میل پر وومن ڈگری کالج کے قیام ،اڈہ رسول پورتا میتلا چوک ،چونگی نمبر 5تا اڈہ ساتواں میل دو رویہ سڑک کی تعمیر ،شہریوں کے پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے منصوبوں سمیت دیگر میگا پروجیکٹس کا بھی اعلان کریں گے ۔جبکہ وہ جلسے سے قبل بورے والا میں زیر تعمیر میاں محمد شہباز شریف منی بائی پاس ۔ریسکیو 1122۔لینڈ ریکارڈ سنٹر،سپیشل ایجوکیشن سکول سمیت محکمہ پبلک ہیلتھ محکمہ بلڈنگز اور محکمہ ہائی ویز کے دس منصوبوں کی تختیوں کی نقاب کشائی کریں گے 
مکمل تحریر اور تبصرے>>

مسلم لیگ (ن) آئندہ انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر بھر پور کامیابی حاصل کرے گی ممبر قومی اسمبلی سید ساجد مہدی سلیم


بورے والا: مسلم لیگ (ن) کے ممبر قومی اسمبلی این اے168 سید ساجد مہدی سلیم نے کہاہے کہ ان کی حکومت کے دور میں تعلیم،صحت، بجلی اور سڑکوں کی تعمیرکے ریکارڈ ترقیاتی کام مکمل ہوئے ہیں جن کے ثمرات سے عوام مستفید ہو رہے ہیں اور مسلم لیگ (ن) آئندہ انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر بھر پور کامیابی حاصل کرے گی وہ نواحی گاؤں 501ای بی میں چیئرمین یونین کونسل 38محمد کاشف رامے کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی آمد پر عوام کے بڑی تعداد میں ان کا والہانہ استقبال کریں گے اورثابت کریں گے کہ بورے والا مسلم لیگ (ن) کا قلعہ ہے اور یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ مسلم لیگ ن سے محبت کی ہے۔اس موقع پر سابق وفاقی وزیر و ضلع ناظم وہاڑی سید شاہد مہدی نسیم، کوآرڈنیٹر تنویر احمد گجر،وائس چیئرمین ضلع کونسل وہاڑی رانا شاہد سرور، مسلم لیگی راہنما نعیم احمد بھٹی،چیئرمین یونین کونسلز چوہدری آفتاب حسین،ملک حیدر علی لنگڑیال،عامر ممتاز چشتی،حاجی امیر علی،محمد خالد بودلہ،نثار احمد ولیکا،چوہدری احسان اللہ گھمن، وائس چیئرمین یو سی 38 فوجی محمد اسلم ڈوگر،سابق ناظم چوہدری محمدسعید رامے، چوہدری سجاد جاوید رامے،ملک منظور احمد نمبردار،چوہدری نعیم صابر، چوہدری محمد صدیق دیول ایڈووکیٹ،ندیم مشتاق رامے،عدنان ارشاد رامے، مسعو الرؤف رامے،محمد عاطف رامے، محمد علی بھٹی، کونسلرز اور عمائدین علاقہ کی کثیر تعداد موجود تھی۔سید ساجد مہدی سلیم نے کہا کہ ان کے حلقہ میں ریکارڈ 25سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا جس میں چک نمبر499 ای بی کے دو سکول بھی شامل ہیں جبکہ ایم پی اے بلال اکبر بھٹی کے ساتھ مل کر ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت سے چک نمبر503ای بی میں صاف پانی کی فراہمی چکوک نمبرز 505,501,503,497,499 کے لئے رابطہ سڑکوں کی تعمیر کیلئے ساڑھے تین کروڑ روپے کے فنڈز منظور ہو چکے ہیں جن پر کام بہت جلد شروع ہوکرجون 2018 تک مکمل ہوجائے گا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر سید شاہد مہدی نسیم نے کہا کہ 1987سے بورے والا کے عوام مسلم لیگ کے ساتھ کھڑے ہیں اور اکثریت نے ہمیشہ ان کی قیادت سے محبت کا اظہار کیا ہے عوام 15فروری کو وزیر اعلیٰ کے جلسہ کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ سمجھتے تھے کہ مسلم لیگ ن کمزور ہو جائے گی وہ شایدکسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کیونکہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت میں پارٹی پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ انشائاللہ مستقبل کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف ہوں گے اور وہ اپنی انتخابی مہم کا آغاز بورے والا سے کر رہے ہیں۔ کوآرڈنیٹر تنویر احمد گجرنے کہا کہ جو لوگ سمجھتے تھے کہ نااہلی کے فیصلہ کے بعد میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کی سیاست ختم ہو چکی ہے لودھراں کا ضمنی الیکشن ان کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جنوبی پنجاب نے ثابت کیا ہے کہ یہ مسلم لیگ کا قلعہ ہے انہوں نے کہا کہ مستقبل کے وزیر اعظم کے استقبال کے لئے لوگوں کی کثیر تعداد جلسہ عام میں شرکت کرے گی۔#
مکمل تحریر اور تبصرے>>

بدھ, فروری 7, 2018

دریائے ستلج پر بورے والا اور چشتیاں کے درمیان پل کی تعمیر ایک دیرینہ عوامی مطالبہ


تحریر: ندیم مشتاق رامے
بورے والا: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت جب بھی اقتدار میں آئی اس نے ملک کے اندر انفراسٹرکچر کی ترقی کے لئے ہمیشہ بڑے اقدامات کیے ہیں جن کا براہ راست فائدہ معاشی اور انسانی ترقی کی صورت میں سامنے آیا ہے ملک کے اندر موٹر ویز اور شاہراﺅں کی تعمیر کے اقدامات، میٹرو بس اور میٹرو ٹرین جیسے منصوبے ویسے تو مہذب معاشروں میں ترقی کا استعارہ سمجھے جاتے ہیں لیکن ناقدین ان منصوبوں کے خلاف مسلم لیگ (ن ) کی حکومت پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی توجہ بڑے شہروں کی ترقی کی جانب مرکوز ہے اور یہ پسماندہ اور چھوٹے علاقوں کو مسلسل نظر انداز کر تی رہی ہے لیکن اس بحث میں پڑنے کی بجائے حکومت کی توجہ ایک دیرینہ مسئلہ کی جانب دلائی جانا ضروری ہے وہ یہ کہ ذرائع مواصلات آنے کے بعد دیہی معیشت کو براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے اور اس کی ایک بڑی مثال موبائل فون اور انٹرنیٹ کی فراہمی ہے جس کی وجہ سے ایک کسان چند منٹوں میں منڈیوں سے فصل کی قیمت، موسم کا حال معلوم کر سکتا ہے اور اپنی فصل منڈی میں منتقل کر سکتا ہے اجناس کی زرعی منڈیاں کسان کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتی ہیں اور ان تک آسان رسائی کسانوں کا بنیادی حق ہے اسی طرح جنوبی پنجاب کا یہ خطہ جو کہ بورے والا، وہاڑی، خانیوال، میاں چنوں، چیچہ وطنی، چشتیاں، حاصل پور، بہاولنگر، ہارون آباد وغیرہ کے علاقوں پر مشتمل ہے زرعی اجناس کی پیدوار کے لحاظ سے پنجاب کے انتہائی زرخیزعلاقوں میں شمار ہوتا ہے اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے اگر ان شہروں کو بہترین ذرائع آمدورفت سے آپس میں ملا دیا جائے تو ان شہروں کی دیہی معیشت کے لئے صورتحال انتہائی بہترہو جائے گی۔ اگر جائزہ لیا جائے تو بورے والا سے چشتیاں کا فضائی فاصلہ 46 کلو میٹر ہے لیکن ان شہروں کے لوگوں کو چشتیاں،ہارون آباد، بہاول نگردیگر شہروں کو جانے کے لئے 100 کلو میٹر کی مسافت طے کرتے ہوئے دو شہروں وہاڑی اور حاصل پور سے گزر کربذریعہ ہیڈاسلام دریائے ستلج عبور کرنا پڑتا ہے جس سے نہ صرف وقت کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ فیول کی مد میں بھی زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے اگر بورے والا اور چشتیاں کے درمیاں دریائے ستلج پر ساہوکا کے مقام پر پل اور سڑک بنا دی جائے تو عوام کی اکثریت کو اس کا فائدہ ہو گا۔ بورے والا ، چشتیاں، ہارون آباد، حاصل پور کی غلہ منڈیاں کاروبار میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں کیونکہ کاروباری لحاظ سے ان غلہ منڈیوں میں بیوپاری اپنا مال فروخت کرنا پسند کرتے ہیں جو بہرحال زرعی معیشت کی ترقی کے لئے نئی راہیں کھولے گا۔اس پل کی وجہ سے تعلیمی میدان میں بھی ترقی ہو گی ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے بورے والا میں کیمپس کے قیام کے بعد تعلیمی میدان میں بھی فائدہ مند ہو گا زرعی یونیو رسٹی فیصل آباد کے بورے والا کیمپس سے ان علاقوں کے طالب علم براہ راست مستفید ہو سکیں گے چشتیاں بورے والا کے درمیان اس پل کی تعمیرکے بعد جی ٹی روڈ اور موٹر وے کے مجوزہ منصوبوں تک پہنچنے میں بھی آسانی ہو گی۔ بورے والا اور چشتیاں کے درمیان اس پل کی پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت میں قومی اقتصادی رابطہ کونسل نے PSDP پروگرام کے تحت تعمیر کی باقاعدہ منظوری اگست 2012ئ میں دے دی تھی اور اس کی تعمیر کے لئے 1644 کے فنڈز مختص کرکے 67 ملین روپے جاری کرنے کا حکم جاری کیا تھا اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اس کا پی سی ون بھی تیار کر لیا تھا اور بورڈ میٹنگز میں اس کے پی سی ون کے مختلف پہلوﺅں پر بات چیت بھی ہوتی رہی ہے حالانکہ PSDP پروگرام میں ہر سال اس منصوبہ کا ذکر تو ہوتا ہے لیکن اس کے لئے فنڈز مختص نہیں کیے جا رہے وزیر اعلی ٰ پنجاب نے گذشتہ دورہ بورے والا کے دوران پل کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ وعدہ بھی وفا نہ ہو سکا۔ اب وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف اپنے 15 فروری 2018 کے مجوزہ دورہ کے دوران اگر اس عوامی مطالبہ کو پورا کر دیتے ہیں تو اس فیصلہ سے نہ صرف مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کے ایک دیرینہ مطالبہ کی تکمیل بھی ہو گی جو زرعی معشیت کے لئے انتہائی فائدہ مند ہو گا۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

بدھ, جنوری 24, 2018

برصغیر کی تقسیم کے وقت پاکستان اور بھارت ہجرت کرنے والے خاندان مٹی کی محبت کے رشتے میں بندھے ہیں . سونو نیلی بار


مشرقی پنجاب کے شہر لدھیانہ سے تعلق رکھنے والے بزنس مین سونو نیلی بار کا کہنا ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت پاکستان اور بھارت ہجرت کرنے والے خاندان مٹی کی محبت کے رشتے میں بندھے ہیں دونوں ملکوں کے عوام کے ایک دوسرے سے ملنے سے باہمی محبت اور پیار کو فروغ ملتا ہے

کنول دیپ سنگھ جو کہ سونونیلی بار کی عرفیت سے مشہور ہیں ان کا خاندان تقسیم ہند سے قبل بورے والا میں آباد تھا اور ان کا خاندان 1947ء میں ہجرت کرکے مشرقی پنجاب کے شہر لدھیانہ میں جا بسا تھا جہاں ان کا کپڑے کا کاروبار ہے اور مشرقی پنجاب، ہریانہ اور دہلی تک لدھیانہ کے مال روڈ پر واقعہ ان کے نیلی بار سٹور کی بڑی دھوم ہے جہاں خواتین کے پہناوے فروخت کیے جاتے ہیں

ان کے خاندان نے "نیلی بار" کا نام اپنے پاکستان کے اسی علاقہ سے اپنی محبت کے اظہار کے لیے رکھا ہوا ہے اورپاکستان کی کئی نامور شخصیات جن میں سابق صدر آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور،میاں شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز،سابق وفاقی وزیر شیخ وقاص اکرم، سینیٹر سعید غنی،ایم این اے رمیش کمار سمیت کئی دیگر خریداری کر چکی ہیں۔

سونو نیلی بار نے بتایا کہ میرے داد امحکم سنگھ، ان کےبڑے بھائی ہرنام سنگھ، والد اتم سنگھ گھر میں بورے والا کے رہنے والے لوگوں اوراس علاقہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہمیشہ جذباتی ہوا کرتے تھے تب میں نے 2003ء میں گوگل پر بورے والا کے شہر کےبارے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو میرامقامی صحافی ندیم مشتاق رامے سے ان کی ویب سائٹ بورے والا نیوز آن لائن کے ذریعے رابطہ ہو گیا

میں نے ندیم کو بتایا کہ ہمارا تعلق بورے والا سے ہے اور ان کو اپنے آبائی گھر کے متعلق بتایا کہ ہم اپنے گھر کی تصاویر دیکھنا چاہتے ہیں تو انہوں نے ہمارے گھر کی تصاویر کھینچ کر بھجوا دیں جس پر ہمارے گھر میں کافی جذباتی ماحول پیدا ہو گیااور ہمارا آپس کا باہمی رابطہ دوستی میں بدل گیا اور ہماری دعوت پر ندیم مشتاق رامے،چیئرمین میونسپل کمیٹی محمد عاشق آرائیں، کاروباری شخصیات حاجی محمد اسلم ،شیخ شاہد فاروق پہلی دفعہ 2005ء میں بھارت تشریف لائے تو انہوں نے مجھے میزبانی کا شرف بخشا اور ہمارا پیار کا رشتہ ابھی بھی قائم ودائم ہے ۔

سونو نیلی بار نے بتایا کہ انہوں نے بورے والا کے مقامی لوگوں سے ملاقات کی تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہاں کی مٹی اورہوا میں کچھ ضرور ہے کہ میرے آباؤ اجدا یہاں کی محبت کو نہیں بھول پائے اورآج یہاں کے لوگوں کی محبت اور پیار نے مجھے بھی دیوانہ بنا دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے جب سے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھاہے یہاں کی سوغاتیں، مہمان نوازی ، انسانیت اور محبت کے رشتے نے میرا دل موہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نجی دورہ پر لاہور آئے ہیں لیکن میری خواہش تھی کہ میں بورے والا ضرور دیکھوں اور میری مٹی سے محبت مجھے یہاں کھینچ لائی

سونو نیلی بار نے بورے والا کے ای بلاک میں واقع اپنا آبائی گھر ، وہاڑی بازار اور غلہ منڈی میں خاندانی دوکانیں دیکھیں اور دوستوں کے ساتھ گھوم کر شہر سیر کی اور ان کے استقبال کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں شہری امڈ آئے ۔

سونو نیلی بار نے اپنے دورہ بورے والا کو نہایت شاندار قرار دیا اور اس دورہ کے دوران یم این اے چوہدری نذیر احمدآرائیں ،سابق وفاقی وزیر اور ضلع ناظم وہاڑی سیدشاہد مہدی نسیم، چیئرمین میونسپل کمیٹی چوہدری محمد عاشق آرائیں، وائس چیئرمین حاجی افتخا احمد بھٹی،وائس چیئرمین ضلع کونسل وہاڑی رانا شاہد سرور و دیگر نمائندہ شہریوں سے ملاقاتیں بھی کیں اوران کی شاندار مہمان نوازی پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

اتوار, دسمبر 10, 2017

رحمت آباد کے علاقہ میں پولیس مقابلہ، بدنام زمانہ ڈاکو منیر احمد ہلاک

بورےوالا ۔ تھانہ ماڈل ٹاؤن کے علاقے رحمت آباد میں پولیس مقابلہ، بدنام زمانہ ڈاکو منیر احمد ہلاک۔ بوریوالا سرکل میں پولیس کو متعدد وارداتوں میں بھی مطلوب تھا.

تفصیلات کے مطابق پولیس کو بذریعہ ریسکیو 15اطلاع ملی کہ دو نامعلوم مسلح افراد رحمت آباد پل عقب سٹیڈیم ناکہ لگا کر لوٹ مار کر رہے ہیں.اس اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی تو ڈاکوؤں نے پولیس کو دیکھتے ہی باغ کی جانب دوڑتے پولیس پر فائرنگ کی گھبراہٹ کے عالم دوڑتے اپنے ہی دوسرے ساتھی کا فائر لگنے سے منیر نامی اس ڈاکو کی موت ہو گئی.

جبکہ دوسرا فرار ہو گیا جس کی تلاش جاری ہے.ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت منیر ولد بشیر ذات جیر سکنہ کبیر والا ضلع خانیوال معلوم ہوئی ہے .ڈی ایس پی بوریوالا اور ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود پہنچی اور علاقہ میں ناکہ بندی کروا کر فرار ہونے والے ملزم کی تلاش شروع کر دی.

یاد رہے کہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والا منیر اپنے بوریوالا سرکل میں دہشت کی علامت سمجھا جاتا تھا جبکہ تھانہ گگو اور بوریوالا کے مختلف تھانوں مین قتل, ڈکیتی کے 10سے قریب مقدمات میں مطلوب تھا جبکہ باقی اضلاع سے بھی اس کا کریمینل ریکارڈ اکٹھا کیا جا رہا ہے .حال ہی میں 4 دسمبر کی صبح اڈا کوارٹر پر اپنے ساتھی طارق جسے پولیس ایک فیکٹری پر انہی مجرمان کو گرفتار کرنے کے لیئے چھاپے کی غرض سے لے جا رہی تھی چھڑانے کے لیئے پولیس پر اپنے ایک اور ڈاکو ساتھی طاہر ساکن ملتان کیساتھ مل کر اڈا کوارٹر سے 231 EB روڈ پرامرود کے باغ سے نکل کر حملہ کیا جس سے ان کے اپنے زیر حراست ڈاکو طارق کی موت ہو گئی تھی،

یہ ڈاکو کافی عرصے سے بورےوالہ میں ہمہ قسم جرائم راہزنی ،چوری اور چادر چار دیواری کا تقدس پامال کر کےگھروں میں گھس کر خواتین کی توہین کرنے اورڈکیتیوں جیسی خطرناک مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث اور پولیس سے بچتے چلے آ رہے.

علاقے کے لوگوں نے پولیس کی بروقت کاروائی اوربہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وہاڑی پولیس اور ڈی پی او وہاڑی زندہ آباد کے نعرے لگائے ۔ جبکہ ڈی پی او وہاڑی نے جان پر کھیل کر مقابلہ میں حصہ لینے والی ٹیم کو شاباش دی اور انعام اور تعریفی سرٹیفکیٹ کی اعلان بھی کیا۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

پیر, اکتوبر 2, 2017

حضرت امام حسین کی یاد میں یوم عاشور انتہائی مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا

بورے والا: بورے والا میں نواسہ رسول سید الشہداء حضرت امام حسین کی یاد میں یوم عاشور انتہائی مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا ،علم ،تعزیہ اور ذوالجناح کا مرکزی جلوس صبح 9 بجے امام بارگاہ حسینیہ بورے والا سے سیکورٹی کے سخت حصار میں بر آمد ہوا جلوس میں عزاداروں کی ٹولیاں ماتم ،سینہ کوبی کرتی رہیں اور نوحہ خوانی کا سلسلہ جاری رہا جلوس چوک کلاتھ مارکیٹ ،ریل بازار ،گول چوک ،وہاڑی بازار اور غلہ منڈی کے روایتی راستوں سے گزرا جلوس کی سیکورٹی اور امن و امان کے سلسلہ میں ڈی سی وہاڑی علی اکبر بھٹی ،ڈی پی او عمر سعید ملک ،ڈی ایس پی بورے والا ملک طاہر مجید ،چیئر مین بلدیہ چوہدری محمد عاشق آرائیں ،وائس چیئر مین حاجی افتخار بھٹی اور مسلم لیگ ن کے ممبر قومی اسمبلی چوہدر ی نذیر احمد آرائیں ،ممبر پنجاب اسمبلی چوہدری ارشاد احمد آرائیں کے صاحبزادے عمران ارشاد چوہدری اور امن کمیٹی کے ارکان جلوس کے ہمراہ رہے بلدیہ بورے والا کی طرف سے عاشورہ کے جلوس کے راستوں پر صفائی اور روشنی کے خصوصی انتظامات کئے گئے جبکہ محکمہ مال ،ریسکیو 1122،پولیس ،قومی رضاکارا ن اور محکمہ صحت کے حکام اور اہلکاروں نے بھرپور طریقے سے اپنے فرائض سر انجام دیئے شہر میں جگہ جگہ سیاسی ،سماجی اور تجارتی تنظیموں کی طرف سے ٹھنڈے مشروبات کی سبیلیں لگائی گئیں اور لنگر حسینی کے خصوصی انتظامات کئے گئے امر قابل ذکر ہے کہ گول چوک میں سالہاسال سے مجلس احباب کے زیر اہتمام شرکاءجلوس کی فاقہ کشی کیلئے ہونے والا وسیع لنگر مجلس احباب کے روح رواں شیخ نثار وقار کی رحلت کے بعد دو سال سے جاری نہ رہ سکا جس کی کمی شدت سے محسوس کی گئی عاشورہ کا جلوس اپنے روایتی روٹوں سے ہوتا ہوا نماز مغرب سے قبل کربلا جوئیہ رو ڈ پر خصوصی اختتامی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بورے والا راﺅ محمد تسلیم اختر اور ڈی ایس پی ملک طاہر مجید نے چیف آفیسر بلدیہ راﺅ محمد علی اور امن کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ تمام محکموں کے نمائندوں اور اہلکاروں کو عاشورہ محرم کے موقع پر اپنے فرائض کی شاندار کارکردگی پر خراج تحسین پیش کیا رات کو امام بارگاہ حسینی بورے والا میں مجلس شام غریباں بپا ہوئی جس میں ذاکرین حضرت نے میدان کربلا میں حضرت امام حسین اور ان کے جانثار ساتھیوں پر ہونے والے یزیدی مظالم اور مصائب بیان کئے
مکمل تحریر اور تبصرے>>

پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل بورے والا کی تنظیم،خواتین ونگ اور تمام سنیئر راہنماﺅں نے نئے سٹی عہدیداران کی نامزدگی پر عدم اعتماد کا اعلان کر دیا

بورے والا: پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل بورے والا کی تنظیم، خواتین ونگ اور تمام سینئرراہنماﺅں نے نئے سٹی عہدیداران کی نامزدگی پر عدم اعتماد کا اعلان کر دیا، صوبائی صدر مخدوم احمد محمود کے پی اے عبدالقادر شاہین کے خلاف سنگین الزامات، اگر پارٹی قیادت نے بغیر مشاورت کے بنائی گئی تنظیم کا نوٹیفکیشن منسوخ نہ کیا تو تمام پارٹی عہدیداران سنیئر راہنما اور کارکنان فیصلے کے خلاف بڑا قدم اٹھانے پر مجبور ہونگے، تحصیل صدر احسن سردار بھٹی اور دیگر عہدیداران کی ہنگامی پریس کانفرنس، پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل بورے والا کے صدر و امیدوار صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی 233 احسن سردار بھٹی، ضلعی صدر خواتین ونگ مسرت نذیر بھٹی، تحصیل سنیئر نائب صڈر کیپٹن (ر)چوہدری محمد اسماعیل، تحصیل جنرل سیکرٹری غلام مرتضیٰ چوہان اور دیگر عہدیداران، راہنماﺅں اور کارکنان نے ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود کی جانب سے جاری کیے گئے سٹی بورے والا کی تنظیم کے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہوئے تسلیم کرنے سے انکار کردیا پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی صدر مخدوم سید احمد محمود نے ڈویڑنل، ضلعی اور تحصیل کی تنظیم کے ساتھ مشاورت کیے بغیر اپنے پی اے عبدالقادر شاہین جس کا کردار ہمیشہ سے قابل مذمت رہا ہے ان کے کہنے پر ایک ایسے شخص کو پارٹی کا سٹی صدر نامزد کر دیا ہے جو ہمیشہ سے پارٹی ٹکٹ ہولڈرز کے خلاف آزاد حیثیت سے الیکشن لڑتے ہوئے پارٹی کو نقصان پہنچاتا آ رہا ہے نئے نامزد سٹی صدر کی اہلیہ شگفتہ چوہدری پارٹی کی صوبائی فنانس سیکرٹری ہیں اور انہوں نے عبدالقادر شاہین سے مبینہ ملی بھگت کرکے پارٹی کی مقامی قیادت کی طرف سے متفقہ طور پر بھیجی گئی سٹی تنظیم کی بجائے خود ساختہ تنظیم کا نوٹیفکیشن جاری کروا دیا جن کو پارٹی عہدیداران اور کارکنان ہرگز قبول نہیں کرتے عبدالقادر شاہین جو ایک بدکردار شخص ہے اور اس نے پارٹی پر خود کش حملہ کیا ہے مشکل حالات میں پارٹی کے ساتھ قربانیاں دینے والے عہدیداران اور ورکرز کے جذبات کو پاﺅں تلے روندنے کی کوشش کی گئی ہے جس پر پارٹی کی صوبائی جنرل سیکرٹری نتاشا دولتانہ، ڈویژنل صدر ملک نوشیر خاں لنگڑیال اور ضلعی صدر محمود حیات ٹوچی خاں کو بھی شدید تحفظات ہیں ہم پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اعلیٰ قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سٹی تنظیم کے خود ساختہ اور نام نہاد نوٹیفکیشن کو فی الفور منسوخ کیا جائے ورنہ بہت جلد تمام عہدیداران، ذیلی تنظٰمیں،سنیئر راہنماء اور کارکنان کوئی بڑا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے پریس کانفرنس کے دوران سٹی تنظیم کے نئے نامزد کردہ چار عہدیداران نے بھی تحصیل صدر اور دیگر کارکنان نے موقف کی تائید کرتے ہوئے نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا پریس کانفرنس میں حاجی عنایت اللہ وسیر، شعیب بھٹہ، محمد فاروق بھٹی، ملک اجمل فاروق، ملک بابر، رحیم بخش رحمانی، محمد سلیم درزی، مہر اختر حسین، رانا لیاقت علی، ملک فقیر محمد، شرافت علی، محمود احمد بھٹی، ملک محمد رمضان، محمد یونس چوہان، ملک صغیر انجم اور لیاقت علی بھی موجود تھے۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

ہفتہ, ستمبر 30, 2017

ضلع وہاڑی میں10محرم الحرام کی سکیورٹی کے حوالے کانٹیجنسی پلان تیار کر لیا گیا ۔ ڈی پی او وہاڑی عمر سعید ملک

بورے والا: ضلع وہاڑی میں10محرم الحرام کی سکیورٹی کے حوالے کانٹیجنسی پلان تیار کر لیا گیا ہے، اس سلسلہ میں  ڈی پی او وہاڑی عمر سعید ملک نے 10محرم الحرام کے سکیورٹی پلان کا تفصیلی جائزہ لیا، 10محرم الحرام کو ضلع بھر میں کل 17 مجالس اور 56لائسنسی اور روائتی جلوس برآمد ہوں گے۔ جن میں 20 اے کیٹگری کے جلوس شامل ہیں اس دوران 1852افسران و ملازمان سکیورٹی ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دیں گے۔ اس کے علاوہ پولیس قومی رضا کاران اور والنٹیئرز بھی پولیس کے ساتھ اضافی ڈیوٹی دیں گئے۔ 10محرم الحرام کے موقع پر1آرمی کی کمپنی جبکہ 8پی سی کی پلاٹون بھی خدمات سر انجام دیں گی۔ جلوسوں کے راستوں کو خار دار تاروں سے سیل کیا گیا ہے اور ٹربل سپاٹ پوائنٹس ،مجالس اور جلوسوں کی مانیٹرنگ سی سی ٹی وی کیمرہ جات اور سرویلینس وین سے کی جارہی ہے۔ محرم الحرام کے دوران پر امن اور خوشگوارماحول کی فراہمی کے لئے تما م وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

نواحی گاؤں307 ای بی کے قریب کپاس سے بھرا مزدا ٹرک الٹنے سے اس پرسوار پانچ افراد زخمی


بورےوالا: تھانہ ساہوکا کی حدود میں 307 ای بی کے قریب ٹریفک حادثہ، پانچ افراد سمیت کپاس سے بھرا مزدا ٹرک الٹ گیا، عینی شاہدین ی مطابق حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش ۤآیا اس حادثہ میں مزدا ٹرک پر سوار 5 افرار زخمی ہوگئے جن میں عامر انو، تنویرڈوگر، محمد عاشق، اللہ دتہ، ارباز ارائیں، سجاد بھٹی شامل ہیں۔ تما زخمیوں کو طبی امداد ے لئے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا
مکمل تحریر اور تبصرے>>

جمعہ, ستمبر 29, 2017

مرد کا مرد سے نکاح ،بلدیہ کے ریکارڈ سے جعل سازی بے نقاب ہو گئی

بورے والا: مرد کا مرد سے نکاح ،بلدیہ کے ریکارڈ سے جعل سازی بے نقاب ہو گئی, جعل سازی سے نکاح نامہ کی پرت تیار کر کے دلہن کی جگہ اسکے والد کا نام درج کر دیا، جعل سازوں کے منظم گروہ نے جعل سازی سے اسلامی شعار کا مذاق اڑایا ،نکاح رجسٹرار لیاقت علی ،تفصیلات کے مطابق بعض اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں کہ طارق محمود نامی شخص نے عدالت میں پٹیشن دائر کرتے ہوئے مﺅقف اختیار کیا کہ 10مئی 2013کو نواحی گاﺅں 445ای بی میں ایک ایسے جوڑے کا نکاح رجسٹر ہوا جو کہ دونوں ہی مرد ہیں درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر محمد دین سکنہ ایف بلاک کا نکاح 445ای بی کے ذوالفقار احمد نامی نوجوان سے پڑھایا گیا ہے جو کہ شرعی طور پر ایک سنگین جرم ہے جبکہ ہیجان پیدا کرنے والی اس خبر کی تصدیق کے لئے جب ریکارڈ چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر محمد دین کے بیٹے لیاقت علی کا نکاح ذوالفقار احمد نامی شخص کی بیٹی آمنہ بی بی سے ہوا جسے جعل سازی کرتے ہوئے طارق نامی درخواست گزار نے نکاح رجسٹر ار کو بلیک میل کرنے کے لئے اس شادی کی ایک جعلی پرت تیار کی جس میں لڑ کے کے والد کو دولہا اور لڑکی کے والد کو دلہن ظاہر کیا گیا جبکہ ریکارڈ میں موجود اصل پرت پر نہ ہی دولہا اور دولہن کے دستخط ہیں اور نہ ہی نکاح رجسٹرار کے دستخط ہیں بلدیہ بورے والا کی رجسٹریشن برانچ میں موجود نکاح رجسٹر نے اس جعل سازی کا بھانڈا پھوڑ دیا جسکے ذریعہ میڈیا میں خبریں شائع کرواکے اسلامی شعائر کا کھلم کھلا مذاق اڑایا گیا ہے نکاح رجسٹرار لیاقت علی نے بتایا کہ وہ اس جعل ساز گروپ کے خلاف مکمل قانونی چارہ جوئی کرے گا 
مکمل تحریر اور تبصرے>>